ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج پرکہا ،قانون کو چیلنج کیا ہے تو احتجاجی مظاہرہ کیوں

سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج پرکہا ،قانون کو چیلنج کیا ہے تو احتجاجی مظاہرہ کیوں

Tue, 05 Oct 2021 10:55:00    S.O. News Service

نئی دہلی، 5؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) پیر کو سپریم کورٹ میں لکھیم پور کھیری کیس بھی اٹھایا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جب کسانوں نے زرعی قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا ہے تو پھر احتجاج کیوں ہو رہا ہے۔ عدالت نے زرعی قوانین پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ پھر کسان کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو یہ کہنا چاہیے کہ جب قانون پرپہلے ہی سے سماعت ہورہی ہے تو احتجاج جاری نہیں رہ سکتا۔ یہ ناخوشگوار واقعات کی طرف لے جاتا ہے۔اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ کل یہ واقعہ لکھیم پور کھیری میں پیش آیا۔ 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ احتجاج اس طرح نہیں ہو سکتا۔ جسٹس خانولکر نے کہا کہ جب احتجاج کے دوران کوئی تشدد ہوتا ہے، عوامی املاک کو تباہ کیا جاتا ہے، تب کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ جان و مال کا نقصان ہوتاہے، کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ لوگ اس وقت سڑکوں پر نہیں آ سکتے جب تک معاملہ عدالت میں ہے۔سپریم کورٹ نے پوچھا کہ احتجاج کیوں ہورہاہے؟ سپریم کورٹ پہلے ہی زرعی قوانین پر روک لگا چکی ہے۔جسٹس اے ایم خانولکر کی سربراہی میں بنچ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ ایک طرف آپ عدالت میں پٹیشن دائر کرکے انصاف مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف احتجاج بھی جاری ہے۔راجستھان ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کی جائے۔ کیونکہ ان قوانین کی صداقت کو راجستھان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کسان مہا پنچایت کے وکیل اجے چودھری نے کہا کہ یہاں سپریم کورٹ میں ہم نے اپنی درخواست میں ایم ایس پی سے متعلق مساوات کا ذکر کیا ہے۔ اس میں ہم نے فصل کی خریداری کے ایم ایس پی کو طے کرنے اور صارفین کیلئے بھی زیادہ سے زیادہ قیمت خریدطے کرنے کی بات کی ہے۔ تاکہ کوئی کارپوریٹ ہاؤز من مانی نہ کر سکے۔


Share: